باب سوم
’’ اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کررسوائی ہے ‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا کی رسوائی کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ کسی ایک پیش گوئی میںجھوٹا ثابت ہوجائے بفرض محال اس کی کچھ پیش گوئیاں سچی بھی نکلیں تو وہ اس کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتیں ایسے تو بہت سے نجومیوں کی پیش گوئیاں بھی سچی نکلتی رہتی ہیں ہاں کسی ایک پیش گوئی کا جھوٹا نکلنا اس کے کاذب ہونے کی صریح دلیل ہے ۔ ________________________________________________________________________________________________________________________
۱؎ وَمَا کَانَ لِیْ أَنْ أَدَّعَی النُّبُوَّۃَ وَ أَخْرَجَ مِنَ الْاِسْلَامِ وَأَلْحَقَ بِقَوْمٍ کَافِرِیْنَ۔ وَ ھَا اِنَّنِیْ لَا أُصَدِّقُ اِلْھَامًا مِّنْ اِلْھَامَاتِیْ اِلَّا بَعْدَ أَنْ أُعْرِضَہٗ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ، وَأَعْلَمُ أَنَّہٗ کُلُّ مَا یُخَالِفُ الْقُرْآنَ فَھُوَ کِذْبٌ وَاِلْحَادٌ وَ زَنْدَقَۃٌ فَکَیْفَ أَدَّعَی النُّبُوَۃَ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
ترجمہ:
اور میرے لیے یہ جائز نہیں کہ میں دعویٰ نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہوجائوں اور کافر قوم سے جاملوں۔ اور سُنو کہ میں اپنے الہامات میں سے کسی الہام کی تصدیق نہیں کرتا جب تک کہ میں اُسے کتاب اللہ پر پیش نہ کرلوں اور میں جانتا ہوں کہ ہر وہ بات جو قرآن کے مخالف ہو جھوٹ، الحاد اور بے دینی ہے۔پھر میں مسلمان ہوتے ہوئے کیسے نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہوں۔