باب سوم
1:۔ ’’اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ ‘‘
2:۔ ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسو ل کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
3:۔ ’’گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔‘‘
4:۔ ’’گالیاں سن کردعا دو ، پا کے دکھ آرام دو‘‘۔
’’کبر کی عادت جو دیکھو ،تم دکھاؤ انکسار ‘‘۔
5:۔ قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام ِ زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا ۔لہٰذا اس پر آیت اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے ۔
مرزا صاحب کی گالیوں کے چند نمونے:
اب مرزا صاحب کی گالیوں کے چند نمونے ملاحظہ فرمالیں ۔
-1 عام مسلمانوں کے متعلق:
’’تِلْکَ کُتُبٌ یَّنْظُرُ اِلَیْھَا کُلُّ مُسْلِمٍ بِعَیْنِ الْمَحَبَّۃِ وَالْمَوَدَّۃِ وَیَنْتَفِعُ مِنْ مَّعَارِفِھَا وَیَقْبَلُنِیْ وَیُصَدِّقُ دَعْوَتِیْ اِلَّا ذُرِّیَّۃ الْبَغَایَا الَّذِیْنَ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَقْبَلُوْنَ۔‘‘
ترجمہ: ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے مگر کنجریوں کی