باب سوم

ہے‘‘۔

نوٹ: مرزا قادیانی کی بدکلامی اور گالیوں کا نمونہ آپ اگلی دلیل میں ملاحظہ فرمائیں گے جہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کلام پر قادیانیوں کے اعتراض کا جواب

مرزائی اگر مرزا قادیانی کے جھوٹوں کے جواب میں یہ کہیں کہ العیاذباﷲ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تین جھوٹ بولے تھے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے تو مرزا صاحب کے جھوٹ بھی اسی طرح کے ہیں تو اس کے دو جواب ہیں : 

1} جو جھوٹ ہم نے مرزا قادیانی کے پیش کئے ہیں وہ واقعۃً جھوٹ ہیں جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کلام تو توریہ اور تعریض کے طور پر ہے وہ حقیقت میں جھوٹ نہیں ہے سمجھنے والوں کی غلطی ہے ورنہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کلام کیا ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے جیسا کہ ُشرّاحِ حدیث نے اسکی وضاحت کردی ہے۔ 

2} مرزا قادیانی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت اس روایت کی رو سے جھوٹ کا الزام لگانے والوں کو خبیث، شیطان اورپلید مادہ والاکہا ہے۔ اُس نے لکھا:

 ’’حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بد گمانی ہے اِس کی وجہ ان کی دَروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُس کی فطرت اُن پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اُس پلید کا مادہ اور خمیر ہے ‘‘۔

کذب ِمرزا کی دوسری دلیل ۔مرزا کی تہذیب و شرافت

گالیوں کے متعلق مرزا کے فتاویٰ جات:

مرزا کی گالیوں کے مطالعہ سے پہلے گالیوں سے متعلق اس کے اپنے چند فتاویٰ لکھے جاتے ہیں جن میں اس نے گالی دینے کی سخت مذمت کی ہے: