باب سوم

اُٹھایا جائے گا یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔
قادیانیو! 1857؁ء کا لفظ قرآن کریم میں دکھاؤ۔۔۔کہاں لکھا ہے؟

جھوٹ نمبر 9

’’تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے۔‘‘
’’اور قرآن شریف سے بھی صاف طور پر یہی نکلتا ہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام کتابیں بھی باتفاق یہی کہتی ہیں‘‘۔

جھوٹ بالکل جھوٹ‘ قرآن شریف اور تمام کتب سماوی اور انبیاء علیہم السلام پر یہ صریح بہتان عظیم ہے۔ کسی نبی سے بھی یہ ثابت نہیں کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہوگی۔ بلکہ تمام انبیاء اس پر متفق ہیں کہ قیامت کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس کا صحیح علم کہ قیامت کس صدی میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس کی وضاحت کردی۔ 

’’ھَاتُوا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْن‘‘۔

 اگر شرم و حیا اور ایمان کی رتی ہے تو کسی نبی یا آسمانی کتاب سے صحیح حوالہ سے ثابت کردیں۔

جھوٹ نمبر 10:

’’وَقَدْ سَبُّوْنِیْ بِکُلِّ سَبِّ فَمَارَدَدْتُ عَلَیْھِمْ جَوَابَھُمْ.‘‘

ترجمہ: مجھے لوگوں نے ہر قسم کی گالی دی میں نے جواب نہیں دیا۔

یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مرزانے لوگوں کی گالیوں کا جواب نہیں دیا بلکہ خود اُس نے تسلیم کیا ہے: ’’ کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتداء سختی کی مخالفوں کی طرف سے