باب سوم
قادیانی عذر:
-1 اسکے متعلق قادیانی جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث کنزالعمال میں موجود ہے مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ بخاری شریف سے دکھاؤ۔کیونکہ مرزا نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے
-2 بعض دفعہ وہ ہمارے بعض علماء کے اس قسم کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی غلط حوالہ دیا ۔ جواب یہ ہے کہ کیاان کے غلط حوالہ دینے سے مرزا کی بات سچی بن جائیگی ؟ہر گز نہیں ۔
-3 ہمارے کسی عالم نے بطور استدلال اتنے زور سے غلط حوالہ نہیں دیا، عام حوالہ کا غلط ہوجانا اور بات ہے مگر اتنی تحدّی اور زور و شور سے حوالہ دینا اور پھر غلط دینا یہ دھوکہ اور فریب ہے۔
-4 اگر وہ کہیں کہ نسیاناً لکھا گیا تو پھر اس کی معذرت ہونی چاہیے ۔ مرزا صاحب سے اس کی معذرت دکھاؤ اور کوئی سچا نبی نسیان پر قائم نہیں رہ سکتا۔کیونکہ نسیان کا وقوع اور چیز ہے اوراُس پر استقلال اور چیز ہے۔
-5 اگر وہ چالاکی سے کہیں کہ مرزا صاحب کی غلطی نہیں بلکہ کاتب کی غلطی ہے تو جواب یہ کہ آگے آنے والے الفاظ’’أَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ ‘‘ وغیرہ اس کی تردید کرتے ہیں۔
-6 مرزا قادیانی خطائوں سے معصوم ہونے دعویٰ کرتا ہے ۔
اس لیے قادیانیوں کی تاویل غلط ہے ۔
جھوٹ نمبر 7:
’’ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔‘‘
جھوٹ نمبر8
پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ فرماناکہ ۱۸۵۷ء میں میرا کلام آسمان پر