باب سوم

’’اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کوبغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوضِ قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔‘‘

جھوٹ نمبر 5:

’’ احادیث صحیحہ میں آیاتھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘

اسی طرح مرزا قادیانی نے مزید لکھا ہے ۔ ’’ بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طورپر پائی جاتی ہے مگر احادیث کی رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے ‘‘۔
احادیث جمع کثر ت ہے اس لئے کم ازکم دس احادیث صحیحہ متواترہ دکھاؤ جن میںمسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کے الفاظ وغیرہ موجود ہوں مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائی امت تا قیامت کوئی ایک بھی صحیح حدیث تو درکنار ضعیف یا مجہول بھی نہیں دکھا سکتی۔

جھوٹ نمبر 6:
’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے اُن حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اُس کی نسبت آواز آئے گی کہ:
’’ ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَہْدِیْ‘‘۔
اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو:

’’أَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ‘‘ہے‘‘۔

جھوٹ بالکل جھوٹ ! بخاری شریف میں اس قسم کی کوئی حدیث نہیں۔ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔