باب دوم

اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے ‘‘۔

اس حوالہ سے واضح ہونے والے امور:

اس حوالہ سے درج ذیل امور واضح ہوئے: 1) نزول عیسیٰ ؑ کے معتقد پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ 2) یہ محض اجتہادی خطا ہے اور اس قسم کی خطا اسرائیلی نبیوں سے بھی ہوتی رہی ہے۔(مَعَاذَاللّٰہ)

حوالہ نمبر 4}

’’ہماری یہ غرض ہر گز نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثے کرتے پھرو یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے‘‘

وضاحت:

اس حوالہ سے یہ واضح ہوا کہ :

1) مرزائیوں کی غرض یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وفات و حیات مسیح پر مباحثے و جھگڑےکریں۔

 2) یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔

سو ہم کہتے ہیں کہ جب یہ مسئلہ ہمارے ایمانیات کی جز نہیں ہے ،جب یہ دین کے رکنوں میں سے رکن نہیں ، جب اسلام کی حقیقت سے اس کا کچھ تعلق نہیں ، جب اس کے بیان کرنے یا نہ کرنے سے اسلام میں کچھ فرق نہیں پڑتا ، جب یہ مسئلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد جلد ہی پھیل گیا تھا ، جب یہ عقیدہ خواص کا تھا ، اولیاء کا تھا، اہل اﷲ کاتھا ، اور جب یہ کوئی خاص امر نہیں ہے، جب اس کا ازالہ خدا نے ضروری نہیں سمجھا ،