باب دوم
ہے۔‘‘
وفاتِ مسیح پر بحث کی ضرورت نہیں:
اب ہم اس بات پر دلائل دیں گے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک وفات وحیاتِ مسیح پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ نمبر1}
’’اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا‘‘۔
اس حوالہ سے چند امور واضح ہوئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک :
1) عقیدہ نزول مسیحؑ ہمارے ایمانیات کی جز نہیں ہے ۔
2) یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے کوئی رکن نہ ہے ۔
3) یہ ایک پیش گوئی ہے اس کاحقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔
4) اس کے بیان نہ کرنے سے اسلام ناقص نہیں ہوتا اور بیان کرنے سے کامل نہیں ہوتا۔
حوالہ نمبر2}
’’ کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس فرقہ میں اور دوسرے لوگوں میں سوائے اس کے کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں اور بس۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ،اور زکوٰۃ اور حج وہی ہے سوسمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے