باب اوّل
ء)۔ مرز اشریف احمد (1895ء___ 1961ء)۔ مرزامبارک احمد (1899ء____ 1907ء)۔
لڑکیاں}عصمت (1886ء ___ 1891ء )۔ شوکت بی بی(1891ء__ 1892ء)۔مبارکہ بیگم(1897ء ___ 1977ء)۔ امۃالنصیر(1903ء ___ 1903ء)۔ امۃ الحفیظ بیگم (1904ٗء ____ 1987ء)۔
ان میں سے فضل احمد(جو پہلی بیوی سے تھا)، بشیر اوّل، مبارک احمد، عصمت بی بی، شوکت بی بی اور امۃ النصیرکا مرزا کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا جبکہ باقی اولاد( سلطان احمد(پہلی بیوی سے )،بشیرالدین محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارکہ بیگم، امۃ الحفیظ بیگم) مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی زندہ رہی۔
مرزا قادیانی نے اپنی لڑکی مبارکہ بیگم کا نکاح نواب محمد علی خان سے کیا اور اُس کا حق مہر چھپن ہزار روپے (56000/-) مقرر کیا تھا۔ (دیکھیٔے سیرت المہدی ج1 حصہ دوم ،ص 53روایت نمبر 367۔طبع جدید صفحہ 338،روایت نمبر 369) اور اپنی لڑکی امۃ الحفیظ کا نکاح نواب عبداللہ خان سے کیا اور اُس کا حق مہر پندرہ ہزار روپے (15000/- ) مقرر کیا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا کے ہاں دونوں بیویوں سے سات لڑکے اور پانچ لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں۔ تین لڑکے اور تین لڑکیاں مرزا کی زندگی میں انتقال کر گئیں جبکہ چار لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ رہیں۔
مرزا کے دعوے:
مرزا نے درجہ بدرجہ متعدد دعوے کئے،جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں۔ ملہم من اﷲ۔ مجدد۔ مسیح موعود۔ مہدی۔ ظلی بروزی نبوت۔ مستقل نبوت اور خدائی دعوے
ان دعووں پر چند حوالہ جات:
.1 ’’اور پھرجب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودہویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو