باب اوّل

کامیاب نہ ہوئے ۔

منکوحات مرزا :

مرزا غلام احمد قادیانی کی دو بیویاں تھیں ، پہلی بیوی جس کو ’ پھجے کی ماں‘ کہا جاتاہے اس کا نام حرمت بی بی تھا اس سے 1852؁ء یا1853؁ء میں شادی ہوئی ،دوسری بیوی جس کا نام’’ نصرت جہاں بیگم ‘‘(1865؁ء۔1952؁ء)ہے اس سے نکاح 1884؁ء میں ہوا ۔ اس کی ایک او ربیوی بھی تھی جس کے ساتھ بقول اسکے اس کا نکاح آسمانوں پر ہوا تھا،جس کا نام’’ محمدی بیگم‘‘ (قریباً 1874؁ء ۔1966؁ء)تھامگر اس کے ساتھ اس کی شادی ساری زندگی نہ ہوسکی اس کا مفصّل تذکرہ آئندہ پیش گوئی نمبر6 کے ذیل میں آئے گا۔ واضح رہے نصرت جہاں بیگم کے متعلق مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا ہے کہ لوگ میری بیوی پر الزام لگاتے ہیں کہ اُس کی میرے بعض مریدو ں سے آشنائی ہے۔ (دیکھئے کشف الغطاء ص 16، 20روحانی خزائن جلد 14 ص 197اور203) کیا وجہ ہے کہ حکیم نور الدین اور مولوی عبد الکریم سیالکوٹی باقی قادیانی جماعت کے برعکس نصرت جہاں بیگم کو ’’امّ المؤمنین‘‘ کی بجائے بیوی صاحبہ کہتے تھے؟۔ ۔

پھجے دی ماں:

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ( مرزا قادیانی ) کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’ پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی ۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ اور اُن کا اُن کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لیے حضرت مسیح موعود ( مرزا قادیانی ) نے اُن سے مباشرت ترک کر دی تھی ۔

قادیانی ذہنیت کی پستی ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا بشیر احمد ایم اے جو مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم کی اولاد میں سے ہے جب اپنی والدہ کا ذکر کرتا ہے تو اُسے