باب اوّل

فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی ’فضل‘ ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرَف کی بعض کتابیں او رکچھ قواعد نحواُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اِن کا نا م گل علی شاہ(شیعہ) تھا اِن کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے‘‘۔
نوٹ: مرزا بشیر احمد ایم اے جسے قادیانی (معاذاللہ )قمرالانبیاء کہتے ہیں،اپنے والد کی انگریزی تعلیم کے بارے میں لکھتا ہے کہ :’’اس زمانے میں مولوی الٰہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے (اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیں استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی۔ اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں

انبیائے کرام کا کوئی دنیاوی استاد نہیں ہوتا وہ بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ سے علوم حاصل کرتے ہیں ۔ جیساکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے کہ ’’ تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا‘‘۔

اس سے بھی مرزا صاحب کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔