باب اوّل

آرہا ہے۔

   اس کے دورِ امارت میں دارالسلام میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر ہوئی۔افریقہ کورٹس کیس اور 1984؁ء کی تحریک میں مسلمانوں کے مقابلے میں کام کرتا رہا۔آخر کار 1996؁ء میں آنجہانی ہوا۔

4۔ امیرِ چہارم: ڈاکٹر اصغر حمید۔اس کا دورِ امارت 1996؁ء تا 2003؁ء ہے۔ امیر مقرر ہونے سے پہلے انجینئرنگ یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے ڈین رہ چکا تھا۔ اس نے اپنے دورِ امارت میں قرآن مجید کی روسی زبان میں ترجمہ و تفسیر شائع کروا کر تقسیم کی۔ مرزا قادیانی کی کتاب ’’کتاب البریہ‘‘ کا خود انگریزی میں ترجمہ کیا اور لندن جماعت کے ذریعہ شائع کروایا۔مرزا قادیانی کے خود ساختہ ’’نظریہ سفرِ مسیح ‘‘(فلسطین سے کشمیر تک) پر انگریزی میں کتاب لکھی۔ دارالسلام کی جامع(مسجد) میں توسیع کی۔ ہر روز درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کر کے تفسیر کی تکمیل کی۔ انجمنِ احمدیہ اشاعتِ اسلام لاہور(AAIIL) ویب سائٹ کا آغاز کیا۔ 2003؁ء میں آنجہانی ہوا۔

امیرِ پنجم ڈاکٹر پروفیسر عبدالکریم سعید: یہ2003؁ء میں امیر بنا۔ اس وقت یہ ایوب میڈیکل کالج میں پروفیسر تھا۔ امارت کے بعد ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔ یہ صاحب تاحال بڑی محنت کے ساتھ ارتدادی سرگرمیوں میںپوری دنیامیں برسرِ پیکار ہے۔ اور جدید تعلیم یافتہ اور سیکولر طبقہ کو زندیق اور مرتد بنانے میں لگا ہوا ہے۔

ان دوپارٹیوں کے علاوہ مرزائیوں کی چند اور پارٹیاں بھی ہیں مگر یہ دونوں پارٹیاں زیادہ مشہور ہیں۔ ان دو پارٹیوں کا مباحثہ چا رنکات پر راولپنڈی میں ہوا تھا، جو کہ درج ذیل ہے: 

(1 مرز اغلام احمد قادیانی کی پیش گوئی متعلقہ مصلح موعود کا مصداق کون ہے؟ 

(2 مرزا قادیانی کی جانشین انجمن ہے یا خلیفہ ؟