باب اوّل
کا نا م ’’ سیرت مسیح موعود ‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس نے متعدد کتب لکھیں۔
مولوی محمد علی لاہوری نے 1914ء میں باقاعدہ علیحدہ دکان بنانا چاہی چنانچہ اس نے لاہور آکر ایک تنظیم بنائی جس کا نام ’’ انجمن اشاعت الاسلام احمدیہ‘‘ رکھااور خود اس جماعت کا پہلا امیر بنا ۔ چونکہ مرکز ان کے پاس نہ تھا اس لئے اس کا کام زیادہ نہ چلا لیکن بڑا سمجھدار تھا اپنی تنظیم کو خوب مضبوط کیا اور غیر ممالک میں پھیلایا جہاںاس کی جماعت کو کافی حدتک کامیابی ہوئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں بلکہ محض مصلح اور مجدد وغیرہ ہے اوران کے نزدیک نبوت ختم ہو چکی ہے۔مولوی محمد علی اور اس کے ساتھیوں کو غیرمُبَایِعِین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔یہ لوگ سوائے مولوی محمد علی لاہوری کے 1920ء تک قادیان میں رہے اور پھر مرزا بشیر الدین محمود کی قتل و غارت گری اور انتقامی کارروائیوں سے تنگ آکر مستقل لاہور منتقل ہو گئے۔
مولوی محمد علی لاہوری کا جماعتی پالیسی بیان:
مولوی محمد علی لاہور ی لکھتا ہے :’’گو ظاہر طور پر کوئی اختلاف جماعت میں نہیں ہوا لیکن دو قسم کے اختلافی امور ان ایام میں پیدا ہو گئے تھے جن کے زیادہ قوت پکڑنے میں صرف مولوی نور الدین صاحب کی زبردست شخصیت مانع رہی ان میںسے ایک امر خلیفہ اور انجمن کے تعلقات تھے اور دوسرا امر مسلمانوں کی تکفیر کا مسئلہ تھا ۔ …… مسئلہ نبوت مسیح موعود جو آج کل فریقین کے درمیان اختلاف کا اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے در حقیقت اسی مسئلہ تکفیر سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ تکفیر بغیر اس کے صحیح نہ ہو سکتی تھی کہ حضرت مرزا صاحب کو منصب ِنبوت پر کھڑا کیا جائے چنانچہ اسی بنا پر مارچ 1914ء میں جماعت احمدیہ کے دو گروہ ہو گئے فریق اوّل یعنی اس فریق کا جو مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے اور آنحضرت صلعم کے بعد دروازہ نبوت کو کھلا مانتا ہے ہیڈ کوارٹر قادیان رہا اور دوسرے فریق نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں قائم کیا‘‘۔
) ہم کہتے ہیں یہ محض ان کی منافقت ہے اگر ان کا اختلاف حقیقی ہے تو لاہوری جماعت