باب اوّل
اس آیت کا مصداق ہے کہ
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘۔
14۔ ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں‘‘۔
15۔ ’’اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَ شَیْأً اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْن۔ تو (مرزا قادیانی) جس بات کا ارادہ کرتا ہے،وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے‘‘۔
مرزا کے جانشین:
مرز اغلام احمد قادیانی کی وفات 26 مئی 1908ء بروز منگل بمرض ہیضہ لاہور میں ہوئی۔(حیات ناصر،ص 13طبع اوّل1927ء قادیان) اس کا پہلا خلیفہ حکیم نورالدین ہو اجو بھیرہ کا بڑا اجل طبیب اور عالم تھا، یہ کشمیر کے راجہ کے پاس رہتا تھا ۔ راجہ نے اسے انگریز کی جاسوسی کے الزام میں نکال دیا تھا اس کا چونکہ مرز اقادیانی سے پہلے سے رابطہ اور تعلق تھا اس لئے دونوں اکٹھے ہوگئے پھر دونوں نے مل کر اس دھندے کو چلایا یہ اس کا دستِ راست تھا اور علم میں اس سے بہت اونچا تھا حکیم نورالدین کی خلافت 1914ء تک رہی اس کی موت کے بعد خلافت کے دوامیدوار بنے:
(1 مولوی محمد علی لاہوری (2 مرزا بشیر الدین محموداحمد
مولوی محمد علی لاہوری، مرزا کا بڑا قریبی مرید تھا اور بہت پڑھا لکھا آدمی تھا قابلیت کے لحاظ سے واقعی وہ خلافت کا حقدار تھا مگر مقابلہ میں چونکہ خود مرزا کا بیٹا تھا، اس لئے اس کو کامیابی نہ ہوئی اور چونکہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے حق میں اس کی والدہ کا ووٹ بھی تھا جس کو مرزائی ’’ام ّالمؤمنین‘‘ کہتے ہیں اس لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ بن گیا۔
بوقت خلافت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی عمر قریباً24 سال تھی اس کی شہزادوں کی سی زندگی تھی اور خوب عیاش تھا۔ 1965ء تک یہ خلیفہ رہا اس نے اپنے والد کی سیرت پر کتاب بھی لکھی جس