باب اوّل

(3 مرزا نبی ہے یا مجدد؟

(4 مرزا کا منکر کافر ہے یا نہیں؟

یہ مباحثہ بصورت رسالہ ’’مباحثہ راولپنڈی‘‘ کے نام سے شائع ہوا، یہ ایک نہایت اہم رسالہ ہے اس میں دونوں پارٹیوں کے دلائل خود مرزا کی تحریرات سے موجود ہیں۔

مرزا بشیر الدین محمود کے بعد سربراہانِ جماعت:

مرزا بشیر الدین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مرزا ناصر احمد خلیفہ بنا، یہ برابر 1982؁ء تک خلیفہ رہا۔ بروز بدھ مورخہ 8 اور9 جون 1982؁ء کی درمیانی شب ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہوکر واصل جہنم ہوا۔ اس کی موت کے بعد خلافت کے بارے میں جھگڑا ہوا بعض کی رائے تھی کہ مرزا بشیر الدین کے بیٹے مرزا رفیع احمد کو خلیفہ بنایا جائے جبکہ بعض دوسرے بیٹے مرزا طاہر احمد کے حق میں تھے۔ بہرحال اسی کشمکش میں مرزا رفیع احمد کو اغوا کرلیاگیا اور یوں مرزا طاہر احمد جو مرزا ناصر احمد کا بھائی ہے خلیفہ بن گیا۔ مرزا طاہر ۱؎ 19 اپریل 2003؁ ء کو مرا تو اسے لند ن میں دفنا دیا گیا، اس کے مرنے کے بعد تقریباً ایک ہفتہ قادیانی خلافت کا جھگڑا چلتا رہا آخر کار مرزا مسرور احمد قادیانی سربراہ بن گیا جو کہ علم اور فنِ خطابت دونوں سے عاری ہے۔مرزا مسرور احمد، مرزا محمود کا نواسہ اور اُس کے بھائی مرزا شریف احمد کا پوتا اور مرزا منصور احمد کا بیٹا ہے۔
۱؎ مرزاطاہر نے 18اپریل کو جمعہ کاخطبہ دیا اور19اپریل صبح ناشتے کے وقت اچانک فالج کاحملہ ہوا اوراس کے ساتھ دوسرا اٹیک ہوا جس سے وہ واصل جہنم ہوا اس کی قبر قادیانی دارالامان قادیان میں بنائی گئی لیکن نعش کے خراب اوربدبودارہونے کی وجہ سے اسے دارالامان بھی نصیب نہ ہوا اورمجبوراً لندن میں ہی دفن کردیاگیا۔