باب اوّل

والوں کو چاہیے کہ وہ قادیانیوں کوکافر کہیں کیونکہ وہ ایک غیر نبی کو نبی مانتے ہیں اور سلسلۂ نبوت جاری مانتے ہیں اسی طرح قادیانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ لاہوریوں کو کافر کہیں کیونکہ وہ ایک سچے نبی کی نبوت کے منکر ہیں ۔ ان کے جماعتی امراء کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ امیرِ اوّل مولوی محمد علی لاہوری۔ اس کا دورِ امارت1914؁ء سے1951؁ء تک رہا۔اس نے پڑھے لکھے جدید طبقہ اور بیرونِ ملک کام کیا اور جماعت کو منظم کیا۔قرآن کریم کی تفسیرانگریزی اور اُردوزبان میں لکھی اور ارتدادی سرگرمیوں میں سرگرم رہا۔ اس کی تفسیر کو دیکھ کر کئی مسلمان رہنما بھی اس سے متاثر ہوئے۔جامعۃالازہر مصر میں بھی اس نے اپنا اثر ورسوخ پیدا کیااور حیاتِ مسیح کے مسئلہ میں ان کے بعض حضرات آج بھی اس سے متاثر ہیں۔

2۔ امیرِ دوم مولوی صدر الدین ۔ اس کا دورِ امارت 1951؁ء تا 1981؁ء ہے۔مولوی صدرالدین جنوری 1881؁ء میں پیدا ہوا۔ تعلیم کے بعد قادیان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور ہیڈ ماسٹر کام کرتا رہا۔خواجہ کمال الدین کے ساتھ مل کر تبلیغی پروگرام، رسالہ اسلامک ریویو، انگریزی ترجمۂ قرآن، برلن میں لاہوری جماعت کی عبادت گاہ(بقول ان کے مسجد)وغیرہ سلسلوں میں کام کرتا رہا۔لاہور میں احمدیہ مارکیٹ اور دارالسلام کالونی تعمیر کروائی۔ 1961؁ء اور 1962؁ء میں نائیجیریا، لیگوس اور گھانا میں مشن قائم کئے۔1953؁ء اور 1974؁ء کی تحریک میں لاہوری گروپ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار رہا۔

3۔ امیرِ سوم ڈاکٹر سعید احمد خان : اس کا دورِ امارت 1981؁ء تا 1996؁ء ہے۔تعلیم کی ابتداداتا نامی گاؤں (ضلع مانسہرہ)کے سکول سے کی۔ چوتھی جماعت میں مانسہرہ کے سکول میں داخل ہوا۔پھر قادیان میں زیرِ تعلیم رہا۔ فراغت کے بعد ڈاکٹری کے شعبہ سے وابستہ ہوا۔ 1981؁ء میں مولوی صدرالدین کے مرنے کے بعد جماعت کا سربراہ بنا۔ایبٹ آباد میںسمر سکول کے نام سے ’’سالانہ تربیتی کورس‘‘کا آغاز کیاجو اب تک ہر سال منعقد ہوتا چلا