باب اوّل
ملازمت:
مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے :
’’بیان کیامجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھُسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر ُادھر پھراتا رہا، پھر جب اُس نے سارا روپیہ ُاڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اِس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے ‘‘ ۔
’’واضح رہے کہ پنشن کی یہ رقم سات صد روپیہ تھی‘‘۔
’’یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے سیالکوٹ میں 1864ء سے 1868ء تک ملازمت کی”
’’یہ بھی واضح رہے کہ مرزا نظام الدین اور امام الدین صاحبان کا چلن ٹھیک نہ تھا۔ نماز روزہ کی طرف راغب نہ تھے۔ تمام خاندان میں صرف مرزا غلام احمد صاحب کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے‘‘۔
وکالت کے امتحان میں ناکامی :
چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی طیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا پر امتحان میں