باب اوّل

.7 ’’ جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمد یؐ مع نبوت محمدیّہؐ کے میرے آئینہ ظلّیّت میں منعکس ہیں تو پھر کون ساالگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘
.8 ’’ اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قَرِیْبًام مِنَ الْقَادِیَانِ‘‘۔ ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتاراہے۔
.9 ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
.10 ’’قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ اَیْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘‘۔ ’’اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالی کا رسول ہو کر آیا ہوں‘‘۔
.11 ’’یٰسٓ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَط عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘۔’اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر‘۔
.12 ’’شریعت کی تعریف یہ ہے کہ جس میں امر اور نہی پا یا جائے اور یہ دونوں میری وحی میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘‘

13۔ ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے ۔اور تو ہی اس