باب چہارم
صداقت مرزا پرقادیانی دلائل اور ان کے جوابات
قادیانی صداقت مرزا پر حسب ذیل دلیلیں پیش کرتے ہیں:
1۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا والی دلیل:
’’فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘ ۔(یونس:16)
ترجمہ: ’’اس سے پہلے بھی تو میں ایک بڑے حصے عمر تک تم میں رہ چکا ہوں پھر کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے۔‘‘
مرزائی کہتے ہیں کہ جس طرح نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت سے قبل کی زندگی جو کفار میںگزاری تھی کو بطور دلیل پیش کیا اسی طرح مرزا صاحب کی بھی نبوت سے قبل کی زندگی بے داغ ہے بعد کی زندگی پر الزامات لگائے گئے مگر چونکہ اس وقت مخالفت تھی اس لئے الزامات لگائے گئے تو مرزا کی پہلی زندگی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بے داغ ہے اور مرزا صاحب خدا کے سچے نبی ہیں۔
جواب نمبر1: نبی کی ساری زندگی پاک اور بے داغ ہوتی ہے بعد کی زندگی پر بحث سے فرار اختیار کرنا اس پر دال ہے کہ مرزاکی زندگی میں ضرور کچھ کالا کالا ہے۔حالانکہ مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ ’’آنحضرت ﷺ کو ہمیشہ مخالفوں نے امین اور صادق تسلیم کیا‘‘۔
جواب نمبر2: مرزا نے اپنی پہلی زندگی میں انگریز کی عدالت میں مقدمہ لڑ کر وراثت حاصل کی حالانکہ مرزائیوں کے نزدیک بھی نبی کسی کا وارث نہیں ہوسکتا۔