باب دوم
شریف، دیانتدار اور سچا انسان ثابت ہوجائے توا سکے تمام مسائل اور دعؤوں کوبلا حیل و حجت مان لیںگے او ردوسرے مسائل میں بحث کرنے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی اور اگر وہ کسی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہوجائے تو بقول مرزا کے اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہے گا چنانچہ مرزا صاحب خود تحریر کرتے ہیں کہ :
’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا ‘‘۔
لہذا پہلے ہم مرزا صاحب کی سیرت وکردار دیکھتے ہیں ۔
ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ کسی مرزائی کے اند ر یہ جرأت نہیں ہے کہ وہ مرز اکو اس کی اپنی تحریروں کی رو سے ایک سچا اور شریف انسان ثابت کرسکے ۔ ہم آگے چل کر مشتِ نمونہ از خروارے اس کے کذّاب ہونے کے چند دلائل پیش کریں گے لیکن اس بحث سے قبل ہم اپنی تائید میں مرز اصاحب کے دونو ں خلفاء کی تحریریں پیش کرتے ہیں ۔
حوالہ نمبر1}
’’خاکسار (بشیر احمد ایم ۔اے) عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول (حکیم نورالدین) فرماتے ہیں کہ ایک شخص میرے پا س آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے‘‘۔
حوالہ نمبر 2}
’’جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اﷲ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہوجاتا ہے … غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی صداقت ثابت ہوجائے تو اسکے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہوجاتی ہے اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا