باب پنجم

 ہوں کیوںکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اور وہ (عیسیٰ بن مریم علیہماالسلامنازل ہونے والے ہیں۔ پس جب انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔(یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صاحبِ عسلِ مصفّٰی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب میں ذکرکرتے ہوئے اِس سے اِستدلال پکڑا ہے۔دیکھیٔے

ہمارا چیلنج

مذکورہ بالا ارشادات نبویﷺ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول آسمانی کے متعلق  یَنْزِلُ، یَمُوْتُ، یُدْفَنُ‘ یَأتِی عَلَیْہِ الْفَنَاء اور ’’یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ‘‘ وغیرہ کے الفاظ موجود ہیں جو تمام مضارع مستقبل کے صیغے ہیں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی اور عدم موت پر صریح دلیل ہیں۔نیز اکثر کتب احادیث میں ’’بابِ نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ موجود ہے۔ اگر یہ درست نہیں تو ہم روئے زمین کے تمام مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ان الفاظ کے برعکس ان کی نفی او رضدلائیں ،جیسے  یَنْزِلُ کے مقابلہ میں لَا یَنْزِلُ، یَمُوْتُ کے بجائے مَاتَ، یُدْفَنُ کی جگہ دُفِنَ ، یَأتِی عَلَیْہِ الْفَنَاء  کی جگہأتٰی عَلَیْہِ الْفَنَاء ، لَمْ یَمُتْ کی جگہ مَاتَ، رَفَعَہٗ کی جگہ مَا رَفَعَہُ یا  لَمْ یُرْفَعْ،’’یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ‘‘ کی جگہ ’’اِنَّہٗ تَزَوَّجَ وَوُلِد َلَہ‘‘ٗوغیرہ جیسے الفاظ میں سے کوئی ایک بھی  لفظ حضور ﷺ کی صحیح حدیث سے ثابت کریں۔۔۔اور حدیث کی کسی بھی ایک کتاب سے ’’باب وفات عیسیٰ علیہ السلام ‘‘دکھائیں ۔۔۔اور منہ مانگا انعام حاصل کریں۔ 

  ھَاتُوا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔ 

رفع اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام پر اجماعِ امت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسدِ عنصری کے ساتھ رفع الی السماء اور پھر قیامت کے قریب نزول ، امتِ محمدیہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ یہ امت چودہ سو سال سے اس عقیدہ پر چلی آ رہی ہے۔ وہ بھی کوئی عقیدہ ہے جو دین مکمل ہونے کے چودہ سو سال بعد طے ہو۔