باب چہارم

رسالہ ’’انوار الاسلام‘‘ میں جو5 ستمبر1894؁ء کو تحریر کیا کہ ’’دوسرا نشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہو گا۔ اور پہلے اس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے۔ کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا۔اورجب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میںکبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے اوراگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بارِ ثبوت اس کے ذمہ ہے‘‘  ۔

  خسوف و کسوف کے متعلق قادیانیوں کے متضاد بیانات: 

قادیانی جماعت کے مشہور عالم اور مناظر عبدالرحمن خادم گجراتی (1910؁ء 1957____؁ء) اب جو فوت ہو چکے ہیں اُن کی کتاب’ احمدیہ پاکٹ بک‘ کے تین مختلف ایڈیشن اس وقت ہمارے سامنے موجود ہیں ملاحظہ فرمائیے۔  

مطبوعہ 1934؁ء

یہ خسوف و کسوف1896؁ء میں ہوا۔

یہ خسوف و کسوف 1897؁ء میں ہوا۔

مطبوعہ 1938؁ء

یہ خسوف و کسوف 1896؁ء میں ہوا۔

یہ خسوف و کسوف 1897؁ء میں ہوا۔ 

مطبوعہ1952؁ء

یہ چاند اور سورج گرہن 1894؁ء بمطابق رمضان 1311؁ھ میں ظاہر ہوا ۔