باب پنجم
حوالہ نمبر 2۔ امام شعرانیؒ کا حوالہ
امام شعرانیؒ (الشیخ عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانیؒ898ھ ____ 973ھ) آیت مذکور سے استدلال کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ:
’’( فَاِنْ قِیْلَ) فَمَا الدَّلِیْلُ عَلٰی نُزُوْلِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنَ الْقُرْآنِ( فَالْجَوَابُ )الدَّلِیْلُ عَلٰی نُزُوْلِہٖ قَوْلُہٗ تَعَالٰی وَاِنْ مِّنْ أَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔‘‘
یعنی کہ اگر کوئی قرآن سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل مانگے تو یہی آیت ان کے نزول کی دلیل ہے ’ کہ اہل کتاب ان کی وفات سے پہلے ان پر بالضرور ایمان لائیں گے۔
مرزائی اعتراض:
بعض مفسرین نے ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب کو بنایا ہے اور یہ قراء ۃ شاذہ کے موافق بھی ہے۔ قراء ۃ شاذہ ’قَبْلَ مَوْتِھِمْ‘ ہے۔
جواب نمبر 1:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تفسیرقرأۃ متواترہ کے موافق ہے اور قرأۃ متواترہ کی موجودگی میں کسی قرأۃِ شاذہ کی ضرورت و حاجت نہیں۔
جواب نمبر 2:
جن حضرات نے ضمیر کا مرجع اہل کتاب کو بنا یا ہے وہ اس کے باوجود عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور آمد ثانی کے تمام امت کی طرح قائل ہیں لہذا ان کا اہل کتاب کو مرجع بنانا ہمیں مضر نہیں ہے۔
جواب نمبر 3:
حکیم نورالدین بھیروی نے مذکورہ بالا آیت کا ترجمہ اپنی کتاب’فصل الخطاب بمقدمہ اہل الکتاب‘