باب پنجم
قرآن مجید میں کئی مقامات پر بَلْ ابطالیہ استعمال کیا گیا ہے۔ مثلا ً :
’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ طبَلْ لَّہٗ مَافِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِطکُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ‘‘o
(البقرہ:116)
ترجمہ: ’’اور یہ لوگ کہتے ہیں اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہوا ہے،(حالانکہ)اُس کی ذات(اس قسم کی چیزوں سے)پاک ہے،بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔سب کے سب اُس کے فرماںبردار ہیں‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
’’وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ طبَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ‘‘۔(الانبیاء:26)
ترجمہ: ’’اوریہ لوگ کہتے ہیں ’’خدائے رحمن(فرشتوں کی شکل میں)اولاد رکھتا ہے‘‘سبحان اللہ! بلکہ (فرشتے تو اللہ کے) بندے ہیں، جنہیں عزت بخشی گئی ہے‘‘۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰیہُ ج بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ‘‘۔ (السجدہ:3)
ترجمہ: ’’کیا یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں!(اے پیغمبر! )یہ تو وہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
فائدہ: بَلْ ابطالیہ یا اضرابیہ جس کلام میں آتا ہے اس میں بَلْکے ماقبل اور مابعد والے مضمون میں منافات ہوتی ہے ورنہ ’’بل‘‘ ابطالیہ بے سود ہے اب مذکورہ بالا آیت میں اس کے مابعدسے اگر رفع درجات مراد لیا جائے تو اس کی ماقبل سے منافات نہیں ہاں رفع حیاً اور قتل میں منافات ہے۔
مرزائی اعتراض: اِلَیْہِسے آسما ن مراد لینا درست نہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ‘‘( اَلبقرہ :115)۔یعنی پس جدھر کو منہ کرو اُدھر ہی اﷲ تعالیٰ کی ذا ت ہے۔ وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَائِ اِلٰہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ ( الزخرف:84)۔یعنی ’’اوراﷲ ہی کی ذات ہے جوزمینوں میں بھی معبود ہے اور آسمانوں میں بھی معبو دہے‘‘ ۔