باب پنجم
جواب: ہم جواب میں چودھویں صدی کے مجدّدین کے ضمن میں یہ نام پیش کرتے ہیں:
1)حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی (1833ء– 1880ء) بانی دارالعلوم دیوبند۔ 2) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (1863ء– 1943ء)۔ 3) حضرت مولا نا محمد الیاس کاندھلوی (1885-86ء– 1944ء) بانی تبلیغی جماعت۔ 4) سید المحدثین حضرت مولانا سید علامہ انور شاہ کشمیری (1875ء— 1933ء)
مجدّدیت کے متعلق چند ضروری وضاحتیں
مرزا ئی ناواقف مسلمانوں سے اس انداز میں پوچھتے ہیں کہ چودھویں اور تیرھو یں صدی کے مجدّدکون ہیں ؟ کہ وہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ شاید اس کے جانے بغیر ہمارا ایمان ناقص رہ جائے گا قادیانیوں کی اس دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے یہ جاننا چاہیے کہ :
1- مجدد پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے ۔
2- مجدد کو بھی اپنے مجدد ہونے کا علم ہونا ضروری نہیں ہے ، ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مجدد ہو لیکن اسے اپنے اس مقام کا علم نہ ہو۔
3- ایک وقت میں ایک مجدد ہونا ضروری نہیں ہے ، بیک وقت مختلف دینی شعبوں کے حوالہ سے کئی مجدد بھی ہو سکتے ہیں۔
4- مجدد ایک اعلیٰ درجہ کا عالم اور بزرگ ہی ہو سکتا ہے ، مرزا قادیانی اس معیار پر پورا اترنے کی اہلیت نہ رکھتا تھا نہ وہ بزرگ تھا نہ ہی عالم تھا۔
رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کی ایک لاجواب دلیل
یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ قرآن حکیم اہل کتاب کے تمام بنیادی اختلافات کے لئے بطور حَکَمْ آیا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا خود دعویٰ ہے:
’’وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْ افِیْہ ِلاوَھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ‘‘۔(النحل :64)