باب چہارم
’’نَحْنُ مَعْشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَانَرِثُ وَلَانُوْرَثُ.‘‘ ۱؎
۱؎ صحیح بخاری میں روایت اس طرح ہے: ’’لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا ہُ صَدَقَۃً‘‘ (صحیح البخاری کتاب الفرائض بَابُ قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ. حدیث نمبر 6727، 6728 باب نمبر 3) نوٹ: لَانَرِثُ کے الفاظ قادیانی پاکٹ بک میں ہیں جس کا بارِ ثبوت بھی انہی پر ہے۔
(پاکٹ بک ص 154تحت عنوان باغ فدک ص163زیرِ عنوان’ مسئلہ وراثت ‘تالیف ملک عبد الرحمن خادم گجراتی۔ 1910ء …1957ء طبع جدید)
جواب نمبر3:
آپ کا یہ صغریٰ اور کبریٰ ہی مسلّم نہیں ہے، یہ تو بالکل صحیح ہے کہ نبی کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاک و صاف اور بے داغ ہوتی ہے اور دعوائے نبوت سے بعد کی زندگی بھی پاک و صاف ہوتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کی پہلی زندگی پاک و صاف اور بے عیب ہو وہ نبی بھی ہو جائے جس طرح نبی کیلئے ضروری ہے کہ وہ شاعر نہ ہو ، وہ کسی سے لکھناپڑھنا نہ سیکھے،جو جھوٹ نہ بولتا ہو لیکن یہ تو ضروری نہیں کہ جو شاعر نہ ہو یا لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو یاجھوٹ نہ بولتا ہو وہ نبی بھی ہوجائے۔
جواب نمبر4:
مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ انبیا ء علیہم السلا م کے سوا کوئی معصوم نہیں اور نہ میں معصوم ہوں ملاحظہ ہو: ’’لیکن افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘
(کرامات الصادقین ص5 روحانی خزائن جلد7ص47)
جواب نمبر5:
مرزا قادیانی خود اقرا ر کرتا ہے کہ میں نے بہت عرصہ گم نامی کا گزارا ہے کہتا ہے: ’’یہ اس زمانہ کے الہام ہیں جس پر تیس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ تمام الہام