باب پنجم
ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں، خداتعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے‘‘۔
’’وہ مجدد خدائے تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لَدُنِّیَہْ و آیاتِ سماویہ کے ساتھ‘‘۔
تیرہ صدیوں کے مجدّدین کی فہرست
یہاں پر عسل مصفّٰی سے تیرہ صدیوں کے مجددین کے نام درج کیے جا رہے ہیں۔ ان میں کسی قسم کی غلطی قادیانیوں کی قلم کاری کا شاخسانہ ہو گی ، ہم اس سے بری الذمہ ہیں:
پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدّد تسلیم کئے گئے ہیں:
(1) عمر بن عبدالعزیز (2) سالم (3) قاسم (4) مکحول
علاوہ ان کے اور بھی اس صدی کے مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنٰی ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ ماناجاتا ہے اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھاتو دوسرے اس کے تابع ہو کر کارروائی کرتے تھے چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمیع صفات حسنٰی حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے۔
دوسری صدی کے مجدّد اصحاب ذیل ہیں:
(1) امام محمد ادریس ابو عبداﷲ شافعی (2) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (3) یحییٰ بن معین بن عون غطفانی (4) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (5) ابو عمرو مالکی مصری (6) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (7) قاضی حسن بن زیاد حنفی (8) جنیدبن محمد بغدادی صوفی (9) سہل بن ابی سہل بن رنحلہ الشافعی (10) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداﷲ صوفی بغدادی (11) اور بقول قاضی القضاۃ علامہ عینی احمد بن خالد الخلال ابو جعفر حنبلی بغدادی ۔