باب پنجم

علیہ الصلوٰۃ و السلام پیش کی تو وہ کتاب کو دیکھ کر بہت مسکرائے۔ بعد ازاں زبان مبارک سے فرمایا کہ آپ ہی ہر روز بعد نماز مغرب اس کو سنا دیا کریں۔ چنانچہ بہ تعمیلِ ارشاد کئی ماہ تک مغرب سے عشاء تک سناتا رہا اور بعض دفعہ ایسا بھی اتفاق ہوا کہ بعض صاحبان نے مجھے مغرب سے پہلے کہہ دیا کہ آج ہم کچھ بحضور مسیح علیہ السلام سننا چاہتے ہیں تو میں کتاب ہمراہ نہ لے جاتا مگر، حضرت اقدس کواس قدر دلچسپی اس کتاب سے ہو گئی تھی کہ جب میرے ہاتھ میں کتاب نہ دیکھتے تو فرماتے کیوں کتاب نہیں لائے جاؤ، لاؤ اور سناؤ۔‘‘
اس سے واضح ہوا کہ یہ کتاب مرزا صاحب کی مصدّقہ ہے اور اس کے اندر جو مجددین کی فہرست ہے وہ مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی مسلّم مجددین ہیں اب ہم کتاب عسلِ مصفیٰ سے فہرست نقل کرنے سے پہلے مرزا قادیانی کی زبانی مجدّد کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں:

مجدّد کی تعریف:

’’ جولوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدّدیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جونبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل کوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے اور خداتعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کیوقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار وکردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفّٰا کئے گئے اوربتمام وکمال کھینچے گئے ہیں‘‘۔
نیز مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب شہادت القرآن میں لکھتا ہے کہ ’’یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے ہاں گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے