باب سوم

اب ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا دجال اور ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے (بقول مرزا کے ) تو قدرت الٰہی نے دجال کیلئے اس کے گدھے پر سوار ہونے کا انتظام کردیا۔چنانچہ 26مئی 1908؁ء کو مرزا کی مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں ہیضہ سے موت ہوئی اور اس طرح مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق دجال ثابت ہو گیا۔۔۔اورانگریزی پولیس اپنی نگرانی میں اُس (دجال) کی لاش لاہور سے قادیان بذریعہ ریل گاڑی (دجال کا گدھا)لے گئی۔
حوالہ نمبر2:
مرزا قادیانی نے اپنے سسر میر ناصر نواب کو بلا کر کہا :
’’میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیاہے ‘‘ ۔

مرزا صاحب کے اس اعتراف کے بعد کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے اب کسی تاویل یا انکار کی گنجائش نہیں ہے واضح ہوکہ مرزا صاحب نے طب کی کتب بھی پڑھی ہوئی تھیں لہٰذا ان کا یہ کہنا قابل اعتبار ہوگا ۔
مرزائیوںکا ایک اور عذر:
مرزا قادیانی نے اس آخری فیصلہ کے ذریعے مولوی ثناء اﷲ کو مباہلہ کی دعوت دی تھی اور مولوی ثناء اﷲ بالمقابل مباہلہ کیلئے تیار نہ ہو ا اس لیے مرزا صاحب کا اس کی زندگی میں مرنا جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں ۔
جواب :
یہ سراسر جھوٹ ہے مرزا کے اس آخری فیصلہ میں کوئی مباہلہ کا لفظ نہیں ہے نہ ہی اس میں یہ موجود ہے کہ مولوی ثناء اﷲ بھی اس قسم کی دعا کریں یہ محض یک طرفہ دعا تھی جو مرزا قادیانی نے اﷲ تعالیٰ کی بار گاہ میں مانگی جس کو خدا تعالیٰ نے قبول فرما کر فیصلہ کردیا۔ ’’اس بات پر کہ مرزا صاحب کا یہ اشتہار محض یک طرفہ دعا ہے یامباہلہ ہے ‘‘؟