باب سوم
کذب مرزا کی چھٹی دلیل۔مولانا ثناء اﷲامرتسریؒ کے ساتھ آخری فیصلہ
مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (1868ء—— 1948ء)کا مرزا قادیانی کے ساتھ ہمیشہ مقابلہ رہا۔ مرزا قادیانی جب دلائل کی دنیا میں ناکام ہوا تو زچ ہو کر آخری فیصلہ کا اعلان کیا۔ جس کے بارے میں مکمل تفصیلات محمدیہ پاکٹ بک ص613 طبع جنوری 2020ء ‘پر ملاحظہ فرمائیں ۔ ہم مرز اکے اشتہار کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔
’’بخدمت مولوی ثناء اﷲ صاحب السلام علی من ا تبع الھدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اورتفسیق کا سلسلہ جاری ہے ہمیشہ مجھے آپ اپنے اِس پرچہ میں مردودکذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایااو رصبر کرتا رہا اگر میںایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا اور اگر میں کذاب ومفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اورمخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اﷲکے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں ، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی وحی یا الہام کی بنا ء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا ہے ۔ اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کوخوش کردے ۔آمین
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جوچاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے‘‘۔