باب سوم

قادیانیوں کی ایک دلچسپ تاویل

مرزا نے

پر لکھا ہے کہ ’’ ایک دفعہ جس کو قریباً اکیس ۲۱ برس کا عرصہ ہوا ہے مجھ کویہ الہام بھی ہوا کہ

’اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَئَیْتَ خَدِیْجَتِیْ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ۔
ترجمہ:    ’’میری نعمت کا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پایا۔ آج تو ایک حظّ عظیم کا مالک ہے‘‘ —— اور اس زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا کہ بِکْرٌوَّثَیِّبٌ‘ یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی ‘‘ ۔
مرزا کو 21 برس بعد یہ الہام یاد آیا اور امید تھی کہ محمدی بیگم اگر کنواری نہیں تو بیوہ ہوکر عقد میں آئے گی مگر مرزا کی وفا ت تک وہ مرزا سلطان محمد کی سہاگن ہی رہی اور یہی عرصہ نہیں بلکہ مرز اکے بعد چالیس بر س تک وہ سلطان محمد کے بستر راحت کی زینت رہی اور بہر حال مرزا کی اس نامراد عاشقی کے ایام مستعار میں نہ وہ بیوہ ہوئی اور نہ ہی مرزا کا یہ الہام شرمندہ تعبیر ہوسکا۔

                تذکرہ( مجموعہ الہامات مرزا)کے مصنف نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے مرزا کی بیوی نصرت جہاں کی ذات میں ہی پورا ہوا جو کہ بَاکِرَہْ آئی اور ثَیِّبَہْ ہوکررہ گئی ۔ ۱؎

۱ ؎        طبع دوم اور سوم میں تھا کہ ’’یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین (نصرت جہاں بیگم) کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے۔ جو بکریعنی کنواری آئیں اور ثَیِّب یعنی بیوہ رہ گئیں‘‘۔ لیکن طبع چہارم میں’ حضرت ام المؤمنین ‘کی جگہ’ حضرت امّاں جان ‘لکھا گیا ہے۔