باب سوم
پنجم۔ اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔
ششم۔ پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کرباوجود سخت مخالفت اسکے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔
اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیںانسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے د ل کو تھام کر سوچ لیںکہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہونے کی حالت میں انسان کا فعل ہوسکتی ہے ‘‘۔
’’ میں با ربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔اوراگر میں جھوٹا ہو ں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جا ئے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدائے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسے ہی پوری کردے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پُوری ہوگئی ۔اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہوجاتا ہے۔‘‘
اس پیش گوئی کے بارے میں چند اہم معلومات:
1- مرزا نے 20 ؍فروری 1888ء میں محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی کی ۔
2- محمدی بیگم کا نکاح ،سلطان محمد سے 7 / اپریل 1892ء کو ہوا۔
3- احمد بیگ 30 ستمبر 1892ء کو فوت ہوا ۔
مرز اکا دجل و فریب:
مرزا کو اصل الہام یہ ہوا تھاکہ و ہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اوریا خداتعالیٰ بیوہ کرکے اس کومیری طرف لے آوے۔