باب سوم
مرزا کی پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں :’’ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقررکر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دورکرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے :
’’ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَیَرُدُّھَآ اِلَیْکَ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ عَسٰٓی اَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔‘‘
یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کوجھُٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے سو خدا ئے تعالیٰ اُن سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگا ر ہوگا اور انجام کا ر اُس کی اِس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تومیرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی…الخ۔
پیش گوئی میں دعوے:
’’میری اس پیش گوئی میں ایک نہیں بلکہ چھ دعوے ہیں:
اول۔ نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔
دوم۔ نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینازندہ رہنا۔
سوم۔ پھر نکاح کے بعد اُس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔
چہارم۔ اس کے خاوند کااڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔