باب سوم

تیرے لئے یہ نشان دکھلائیں گے ۔اور ان کو کہہ دے کہ یہ نشان میری سچائی کا گواہ ہو گا‘‘۔

مرزاقادیانی کی تاریخ پیدائش جسے مرزا صاحب نے خود لکھا ہے کہ میری پیدائش 1839؁ء یا 1840؁ء میں ہوئی ۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس کتاب میں آگے مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ 1857؁ء کی جنگ کے وقت میں سولہ یا سترہ سال کا تھا (کتاب البریہ ص146 روحانی خزائن جلد 13 ص 177)۔ مرز اکے مرنے کے بعد مرز اصاحب کی یہ پیش گوئی صاف جھوٹی ہوگئی اور یہ عظیم الشان نشان بھی مرزا کے کذب کا زندہ جاوید ثبوت بن گیا۔ مرزا کے مرنے کے بعد مرزائی سخت پریشان ہوئے کیونکہ اس حساب سے اس کی عمر 68 سال یا 69 سال بنتی ہے اور پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی ہے ۔ مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا کہ میری تحقیق میں مرزا صاحب کی پیدائش 1837؁ء میں ہوئی مگر پھر بھی عمر پیش گوئی کے موافق نہیں بنتی ۔ پھر بشیر احمد ایم اے نے کہا کہ حضرت کی پیدائش 1836؁ء میں ہوئی مگر پھر ایک اور تحقیق کی گئی کہ پیدائش 12 فروری 1835؁ء میں ہوئی اس لحاظ سے بھی پورے 74 سال نہیں بنتے پھر ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری نے مرز ا کی سیرت پر کتاب لکھی جس کا نام ’’ مجدداعظم ‘‘ رکھا اس نے تحقیق کی کہ حضرت کی پیدائش 1833؁ء میں ہوئی ۔ ان کے ایک اور محقق نے بتا یا کہ حضرت 1830؁ء میں پیدا ہوئے ،سوال یہ کہ جس مرزا کو یہ لوگ اپنا نبی اور مقتدا مانتے ہیں اس کی اپنی تحریر اور عدالتی اقبالی بیان سے اس کے مرنے کے بعد اس قدر اختلاف کیوں؟ یہی اس کے جھوٹے ہونے کی صریح دلیل ہے ایک کا ابطال دوسرے کو لازم ہے ، مرزائی خود فیصلہ کریں کہ مرزا صاحب سچے ہیں یا ان کے چیلے ؟ مرزا صاحب کا اپنا بیان صحیح اور قوی ہے ۔ کیونکہ یہ اس کا عدالتی بیان ہے اور اس عدالتی بیان کی رو سے اس کی عمر 69/68 سال بنتی ہے ۔