باب سوم
جواب:
مرز اصاحب کی یہ پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی کیونکہ اس پیش گوئی میں تصریح ہے کہ وہ خارق عادت عذاب سے ہلاک ہوگا اور خارق عادت عذاب وہ ہوتا ہے جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہ پائی جائے اور اس طرح کی نظیریں تو سینکڑوں پائی جاتی ہیں لہذا خار ق عادت عذاب نہ ہوا اور مرزا صاحب کی پیش گوئی جھوٹی نکلی ۔
مرز انے خو د خار ق عادت کی تعریف اپنی کتاب
پر لکھی ہے :
’’خارق عادت اسی کو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیامیں نہ پائی جائے‘‘۔
اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ
ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹ نکلی ۔کیونکہ لیکھ رام 6 مارچ 1897ء کو بذریعہ قتل فوت ہوا۔
مرز اصاحب کا دجل :
لیکھ رام کے قتل کے بعد مرزا نے دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے نزول المسیح میں چھری کا لفظ بھی اپنی پیشگوئی کو سچا بنانے کیلئے اپنے پاس سے اضافہ کردیا جو اس کا صریح دجل و فریب ہے یہ اضافہ دیکھئے ؛
مرز اصاحب کا دجل :
لیکھ رام کے قتل کے بعد مرزا نے دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے نزول المسیح میں چھری کا لفظ بھی اپنی پیشگوئی کو سچا بنانے کیلئے اپنے پاس سے اضافہ کردیا جو اس کا صریح دجل و فریب ہے یہ اضافہ دیکھئے ؛