باب سوم
اکرم ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کرلیا تھا‘‘۔
جواب نمبر1:
اگر اسی وقت اس نے رجوع کرلیا تھا تو مرزا کو اسی وقت اسی مجلس میں اعلان کرنا چاہیے تھا کہ چونکہ اس نے رجوع کرلیا ہے لہذا میری پیش گوئی میں کوئی حرج نہیں آئے گا بلکہ میری پیش گوئی پوری ہوگئی حالانکہ مرزا صاحب کو بعد میں بھی یقین نہیں تھا کہ یہ پیش گوئی پوری ہوگی یا نہیں ۔ اسی لئے تو مرزا صاحب نے اسکی ہلاکت کیلئے وظائف و دعائیں کیں اور واویلا کیا ،وغیرذلک۔ مرزا قادیانی کا صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے
پر لکھتاہے :
’’ بسم اﷲ الرحمن الرحیم بیان کیا مجھ سے میاں عبداﷲ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعادمیں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مجھے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یا د نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداﷲ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت یاد نہیں مگر مجھے اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی جیسے الم ترکیف … الخ ۔ اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کرکے ختم کیا‘‘۔
میں ہے کہ:’’ آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں۔ بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ ہر طرف سے اُداسی کے آثار