باب سوم
-9 اِنَّ الْعَدَا صَارُوْا خَنَازِیْرَ الْفَلَا
وَنِسَائُھُمْ مِنْ دُوْنِھِنَّ الْاَکْلَبُ
یعنی میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھکر ہیں۔
-10 اب جو شخص ۔۔۔۔زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اُس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔
کذب مرزا کی تیسری دلیل۔جھوٹی پیش گوئیاں
اس بحث سے قبل خود مرزا صاحب ہی کے قلم سے لکھے ہوئے چند ایک اصول ملاحظہ فرمائیں:
اصول نمبر 1:
’’بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کیلئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محکِ امتحان نہیںں ہو سکتا ‘‘۔
نوٹ:
لفظ مَحَک اور مِحَک دونوں طرح پڑھاجاتا ہے،جس کا مطلب کسوٹی ہے۔
اصول نمبر 2:
علاوہ اس کے جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور بداہت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت اَحدیت میں خاص طور پر توجہ کرکے ان کا زیادہ تر انکشاف کرالیتے ہیں۔