باب سوم

اولاد ،جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگادی ہے پس وہ قبول نہیں کرتے ۔‘‘

-2 مولوی سعداﷲ لدھیانوی کے متعلق:
وَمِنَ اللِّئَامِ اَرٰی رُجَیْلاً فَاسِقًا غَوْلاً لَعِیْنًا نُطْفَۃَ السُّفَھَائِ
ترجمہ:
اور لئیموں میں سے ایک فاسق معمولی آدمی کو دیکھتاہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے ، سفیہوں کا نطفہ ہے۔
شَکِسٌ خَبِیْثٌ مُفْسِدٌ وَمُزَوِّرٌ
نَحسٌ یُسَمّٰی السَّعْدَ فِیْ الْجُھَلَائِ

ترجمہ :
بدگوئی اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کرکے دکھانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعداﷲ رکھا ہے ۔

آذَیْتَنِیْ خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ
اِنْ لَمْ تَمُتْ بِالْخِزْیِ یَا ابْنَ بِغَائٍ.

مرا بخباثت خود ایذا ء دادی پس من صادق نیم
اگر تو اے نسل بدکاراںذلت نمیری
ترجمہ :
تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت د کھ دیا ہے پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو اے نسل بدکاراں۔

ناظرین!
مرزا قادیانی نے تتمہ حقیقت الوحی ص14،15 روحانی خزائن جلد 22ص446 پران اشعار کا اردو ترجمہ لکھا مگر ’’ یَا ابْنَ بِغَائٍ‘‘ کا ترجمہ حذف کر دیا ہے جو مرزا کی بد دیانتی کا شاہکار ہے۔
نوٹ:
بَغَایَا،بَغِیٌّ کی جمع ہے جس کا معنی ہے بدکار عورت جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :’’وَمَاکَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا‘‘۔

او ربَاغِیٌ جس کا معنی سرکش ہے اس کی جمع بُغَاۃٌ ہے ۔