باب سوم
تعلیم دے گا‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
اسی طرح قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے:
’’ وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰئۃَ وَالْاِنْجِیْلَ‘‘(المائدہ:110)
ترجمہ:
’’(جب اللہ کہے گااے عیسیٰ ابنِ مریم!میرا انعام یاد کرو—– )اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی تھی ‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
اس میں بھی تعلیم کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے …الخ۔ یہ بھی صاف جھوٹ ہے ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔
مرزائی عذر :
مرزائی ان ہر دوحوالوں میں تاویل کرکے تطبیق کرتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ نہیں ہے جو پڑھا ہے اس سے مراد قرآن کے ظاہری الفاظ ہیں اور جہاں لکھا کہ نہیں پڑھا اس سے مراد معارف ومعانی ہیں۔
جواب: یہ تاویل متعدد وجوہ سے غلط ہے :
وجہ اوّل: مرزا غلام احمد نے (نَعُوذُبِاللّٰہِ)اپنے حال کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حال سے تشبیہ دی ہے کیا حضور ﷺ نے بھی ظاہری الفاظ کسی استاد سے پڑھے تھے؟ یہ اس کا تشبیہ دینا بتارہا ہے کہ وہ خود یہاں ظاہری الفاظ اورمعانی وغیرہ کا فرق مراد نہیں لے رہا۔
وجہ ثانی : اس سے معارف و معانی مراد لینا غلط ہے کیونکہ اس نے خود تین چیزیں بیان کیں
:1)قرآن۔
2)حدیث۔
3)تفسیر۔
معارف ومعانی تو تفسیر میں ہوتے