باب سوم

’’فَاَخْبَرَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ‘‘ سے شروع ہوتا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ حضو ر ﷺ نے یہ کس حدیث میں خبر دی ہے وہ حدیث پیش کریں۔ یہ حضور ﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّار‘‘۔ 

(صحیح البخاری فی کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی ﷺ

، صحیح مسلم فی المقدمۃ، باب تغلیظ الکذب علی الرسول اللہ ﷺ ص7حدیث نمبر3)

یعنی’’ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘

لہذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزانے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا۔

جھوٹ نمبر 4:

’’ ہمارے نبی ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھامگرحضرت عیسی( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی—– سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یاحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیا ر کی ہے‘‘۔

یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہماالسلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ؟ یہ ان انبیاء علیہم السلام پر صریح الزام ہے، قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کون سے یہودی عالم سے تورات پڑھی تھی ۔ حالانکہ قرآن پاک میں ہے: ’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰئۃَ وَالْاِنْجِیلَ. ‘‘ (آل عمران:48)
یعنی ’’اور وہی (اللہ)اس کو (یعنی عیسی ابنِ مریم کو )کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی