باب دوم

کوئی جھوٹ کوئی بدمعاشی وغیرہ انتہائی رعب سے بیان کرنا چاہیے اور اس طرح دباؤ ڈالنا چاہیے کہ تمہارا نبی ایسا تھا اگرایسا نہ ہو تو گویا میں ہار گیا وغیرہ تو اس طرح کرنے سے مرزائی مناظر جب اس کا جواب دے گا تو خود بخود سیرت مرزا کا موضوع شروع ہوجائے گا اور میدان ان شا ء اﷲ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔

ایک اہم نکتہ :

اگر کوئی شخص حضرت عیسیٰ ؑ کو فوت شدہ مانے مگر مرزا کو نبی نہ مانے تو مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے معلوم ہوا اصل مدار مرزا کی ذات ہے اس لیے سب سے پہلے مرزا کی سیرت پر بحث ہونی چاہیے اسی طرح اگر کوئی شخص عیسیٰ ؑ کی وفات مانے اور نبوت کو بھی جاری مانے مگر مرزا کو نبی نہ مانے تب بھی وہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمان نہیں معلوم ہوا کہ اصل مدار مرزاکی ذات ہے اسی لئے سب سے پہلے مرزا کی ذات و سیرت پر بحث ہوگی جیسا کہ بہائی فرقہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی قائل ہے اور نبوت بھی جاری مانتا ہے مگر مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافرہے کیونکہ وہ مرزا کو نبی نہیں مانتا۔ اس لیے معلوم ہوا کہ اصل محل نزاع مرزا کی ذات ہے اور اسی پر ہم بحث کرنا چاہتے ہیں ۔