باب دوم
جب اس کے عقیدہ رکھنے والے پر کوئی گناہ نہیں ، جب یہ محض اجتہادی غلطی ہے ، جب اس قسم کی خطائیں سابقہ انبیاء سے بھی ہوتی رہیں ، جب آپ کی غرض اس پر مباحثہ کرنے کی نہیں اور جب یہ ادنیٰ سی بات ہے تو اس مسئلہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت و اہمیت باقی نہ رہی لہذا ہم سب سے پہلے مرزا کی سیرت و کردار پر بحث کریں گے جو انتہائی اہم اور ضروری ہے۔
کٹھن مرحلہ:
تعیین ِموضوع نہایت اہم اور کٹھن معاملہ ہوتاہے مسلمان مناظر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سیرت مرزا کا موضوع طے کیاجائے اور مرزائی مناظر کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ حیات ووفات مسیح ، اجرائے نبوت جیسے موضوعات میں وقت ضائع کیا جائے۔ اس لئے اس مرحلہ میں ہمارے مناظر کو انتہائی سمجھداری سے کام لینا چاہیے ۔ ہمارے مناظر کے اندر اتنی قوت ہونی چاہیے کہ وہ اپنا موضوع منوالے اگر کسی صورت میں بھی مرزائی مناظر یہ موضوع نہ مانے تو پھر بے شک مناظرہ نہ کرے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگران کاایک موضوع مانو ، تو اپنا بھی ایک موضوع منوا لو تیسرا درجہ یہ ہے اگر ان کے دو موضوع مانو ، تو پھر اپنے بھی دو موضوع منوالویعنی:
۱۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کردار
۲۔ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کا کردار
مرزائی حربہ:
مرزائی مناظر موضوع طے ہونے سے قبل ہی ہمارے مناظر کے سامنے چالاکی سے کوئی نہ کوئی آیت یا حدیث وفات مسیح پربطور دلیل پیش کر دیتے ہیں حالانکہ ابھی موضوع بحث طے نہیں ہوچکا ہوتا او رہمارا مناظر ان کی دلیل کو معمولی سمجھتے ہوئے اس کے پرخچے اڑانا شروع کردیتا ہے اور یوں خود بخود مرزائیوں کا من بھاتا موضوع وفات مسیح شروع ہوجا تا ہے اس لیے ہمارے مناظرکو چاہیے کہ جب تک موضوع طے نہ ہو ،جواب نہ دے بلکہ یہی چالاکی اور یہی حربہ ان سے کرنا چاہیے کہ بات چیت کے دوران ہی مرزا کا