باب دوم

کے واسطے ہے اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور ایک جماعت الگ بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص او راولیاء اور اہل اﷲ کا یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسااہم امر ہوتا تو خدا تعالی اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کردیتا۔‘‘ ۱؎

حوالہ مذکور سے چند امور واضح ہوئے :

1) حیا ت عیسیٰ  ؑ کا عقیدہ آنحضرت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد پھیل گیاتھا۔

2) کئی خواص ، اولیاء ، اہل اﷲ کا یہی عقیدہ تھا ۔

3) یہ کوئی ایسا اہم امر نہیں ہے جس کاازالہ خدا تعالیٰ نے ضروری سمجھا ہو ۔

 حوالہ نمبر 3}

’’ اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ  ؑ دوبارہ دنیا میںآئیں گے توان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو 

________________________________________________________________________________________________________________________

 ۱؎ اب نئے ایڈیشن میں حوالہ اس طرح ہے:’’کل میں نے سنا تھا کہ کسی صاحب نے یہ بیان کیا تھا کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں کے درمیان فرق موت و حیات مسیح علیہ السلام کا ہے۔ ورنہ ایک ہی ہیں اور عملی طور پر ہمارے مخالفوں کا قدم بھی حق پر ہے۔ یعنی نماز، روزہ اور دوسرے اعمال مسلمانوں کے ہیں۔ اور وہ سب اعمال بجا لاتے ہیں۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں ایک غلطی پڑ گئی تھی۔جس کے ازالہ کے لیے خدا نے یہ سلسلہ پیدا کیا۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ مسلمانوں میں یہ غلطی بہت بری طرح پر پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میرا دنیا میں آنا صرف اتنی غلطی کے ازالہ کے لیے ہے اور کوئی خرابی مسلمانوں میں ایسی نہ تھی جس کی اصلاح کی جاتی۔ بلکہ وہ صراط مستقیم پر ہیں تو یہ خیال غلط ہے۔ میرے نزدیک وفات یا حیات مسیح ایسی بات نہیں کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ اتنا بڑا سلسلہ قائم کرتا اور ایک خاص شخص کو دنیا میں بھیجا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی غلطی کچھ آج پیدا نہیں ہوگئی۔ بلکہ یہ غلطی تو آنحضرت ﷺ کی وفات کے تھوڑا ہی عرصہ بعد پیدا ہوگئی تھی اور خواص اولیاء اللہ صلحا اور اہل اللہ بھی آتے رہے۔ اور لوگ اس غلطی میں گرفتار رہے۔ اگر اس غلطی ہی کا ازالہ مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس وقت بھی کردیتا۔ مگر نہیں ہوا۔ اور یہ غلطی چلی آئی اور ہمارا زمانہ آگیا۔ اس وقت بھی اگر نِری اتنی ہی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے ایک سلسلہ پیدا نہ کرتا۔